خُوگر ہے وہ ستم کا وہ عادی جفا کا ہے
ہم کو عزیز بھی وہ مگر انتہا کا ہے
دل کا کروں میں کیا کہ یہ ضدی بلا کا ہے
حامی یہ نامراد اُسی کج ادا کا ہے
افسوس، ہو گیا ہے مرا اُس پہ انحصار
بندوں سے پیار ہے نہ جسے ڈر خدا کا ہے
یہ مسئلہ ہے آپ کا شیدا ہوئے اگر
کہتے ہیں کیا قصور حجاب و حیا کا ہے
تنہا ہو آج تم جو پریشان حال ہو
میرا نہیں قصور تمھاری انا کا ہے
ترکِ تعلقات کے احکام دے کے وہ
کہنے لگے کہ فیصلہ یہ ہی خدا کا ہے
برباد ہو گئی ہے جو فیصلؔ کی زندگی
سب کچھ کیا دھرا یہ کسی بے وفا کا ہے
