اپنی آنکھیں بھگو رہا ہوں میں

اپنی آنکھیں بھگو رہا ہوں میں
خواب سارے ڈبو رہا ہوں میں

جائیے مجھ کو تنگ مت کیجے
مدتوں بعد سو رہا ہوں میں

اس قدر بھی قریب مت آو
آپ سے دور ہو رہا ہوں میں

وہ بہت خوش ہے اپنی دنیا میں
آہ یہ سن کے رو رہا ہوں میں

ہے مرے واسطے یہی کافی
یاد اگر آپ کو رہا ہوں میں

ایک دن چھوڑ دوں گا جاں تیری
خود کو ہر شام کھو رہا ہوں میں

ہے وہیں کی وہیں مری کشتی
صرف چپو بھگو رہا ہوں میں

کہہ رہا ہوں یہ کس سے حال دل
بیج پتھر میں بو رہا ہوں میں

ایک اس کا ہے آسرا فیصلؔ
ہاتھ اس سے بھی دھو رہا ہوں میں