ابھی نہ جاو کہ ٹھنڈی ہوا چلی ہے ابھی
ابھی تو بات بھی باقی ہے رات بھی ہے ابھی
ملا ہوں تم سے تو محسوس ہو رہا ہے مجھے
رواں ہے سانس بھی دھڑکن بھی چل رہی ہے ابھی
مری بھی روح ابھی تک شدید گھائل ہے
ترے بدن میں بھی سامان دلکشی ہے ابھی
تمھیں بھلاوں تو کیسے کہ میرے کپڑوں میں
تمھارے جسم کی خوشبو رچی بسی ہے ابھی
ستم کی آنچ زرا تیز کیجئے صاحب
مرے کلام میں تاثیر کی کمی ہے ابھی
غضب خدا کا جو فیصلؔ کے پاس تیرے بعد
گزارنے کے لئے پوری زندگی ہے ابھی
