آج دریافت حال کر جاناں
چاہے رسما سوال کر جاناں
گو میں لگتا نہیں ترا کچھ بھی
پھر بھی کچھ تو خیال کر جاناں
رک گیا ہے رگوں میں خوں میرا
آ کے دھڑکن بحال کر جاناں
اب بھی رکھے ہیں میں نے تالے میں
تیرے تحفے سنبھال کر جاناں
کوئی پرذہ خراب ہے شاید
دل دیکھاوں نکال کر جاناں
شوق ھل من مزید کہتا ہے
آو فرصت نکال کر جاناں
آو کشمیر گھوم آتے ہیں
بانہیں بانہوں میں ڈال کر جاناں
رہنے دے واپسی کی رہ کوئی
یوں نہ رستے محال کر جاناں
آنکھ مت پھیر اپنے فیصلؔ سے
جا نہ ساغر اچھال کر جاناں
