اب روز کوئی درد نیا کیوں نہیں دیتے

اب روز کوئی درد نیا کیوں نہیں دیتے
کیا بات ہے الفت کا مزہ کیوں نہیں دیتے

کب میری تمنا ہے کہ سینے سے لگا لو
ناچیز کو چوکھٹ پہ بٹھا کیوں نہیں دیتے

مدت سے تڑپتے ہیں سسکتے ہیں بچارے
اِن اپنے مریضوں کو دوا کیوں نہیں دیتے

کیا چیز ہے مانع کہ دیکھاتے نہیں صورت
اَفلاک کے پردوں کو گرا کیوں نہیں دیتے

کس واسطے موقوف ہیں محشر پہ جزائیں
بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملا کیوں نہیں دیتے

تم میرے خدا ہو تو بتاو تو کہاں ہو
موجود ہو جب تم تو پتہ کیوں نہیں دیتے

اب بس بھی کرو ختم کرو روز کا جھگڑا
جو بیت گیا اُس کو بھلا کیوں نہیں دیتے

کیوں مجھ کو ستاتے ہو رُلاتے ہو شب و روز
کیا میں نے بگاڑا ہے بتا کیوں نہیں دیتے

میں نے جو کہا زیست ترا قرض ہے مجھ پر
کہنے لگے مر جاو چُکا کیوں نہیں دیتے

کیوں رکھے ہیں فیصلؔ یہ تصاویر و تحائف
اب اس کے نشانات مٹا کیوں نہیں دیتے