نہیں کہ آپ کا چہرہ گلاب جیسا ہے
گلاب اصل میں دِکھتا جناب جیسا ہے
اُسی نے بھیجا ہے آدھا گلاس شربت کا
جبھی تو ذائقہ خالص شراب جیسا ہے
ہمارے خط کو جلایا نہیں گیا لیکن
جو خط جواب میں آیا جواب جیسا ہے
الٹ پلٹ نہیں اوراق میرے ماضی کے
کہ میرا حال شکستہ کتاب جیسا ہے
سنا ہے اب بھی رعونت نہیں گئی اس کی
حسین اب بھی وہ گویا شباب جیسا ہے
مرا دماغ کہ چلتا ہے صرف اردو میں
مگر وہ شخص کہ مشکل حساب جیسا ہے
چہار سُو جو نظر آ رہا ہے عالم میں
نہیں سراب نہیں ہے، سراب جیسا ہے
اٹھا کے آنکھ گراتے ہو بجلیاں دل پر
تمھارا لطف و کرم بھی عِتاب جیسا ہے
میں اس لئے بھی تجھے یاد کر کے روتا ہوں
کہ تیرے غم کا مزہ بھی شراب جیسا ہے
جہاں میں اور بھی فیصلؔ ریاض ہوں گے مگر
دیکھا کوئی جو ترے انتخاب جیسا ہے
